تعارف جامع العلوم ملتان
جامع العلوم ملتان پاکستان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد عظیم دینی درسگاہ ہےجہاں تمام مسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کرعلوم اسلامیہ و علوم جدیدہ کی بالکل فری تعلیم دی جاتی ہے،اس کے قیام کا مقصد اسلام کے حقیقی نمائندوں کو پیدا کرنا یا تیار کرنا ، جن کے پاس دنیا کا علم اور حب الوطنی کا نقطہ نظر ہو، جو اسلام کی مکمل تعلیم کے ساتھ انسانیت کی رہنمائی کریں۔ اس مقصد کے لیے نوجوان نسل کو قرآن و حدیث کی تعلیم کے مکمل تصور سے آراستہ کرنا ہے جس سے انہیں گہری بصیرت اور آج کی دنیا میں ان کا اطلاق ہو اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے جدید علم کے ساتھ تقابلی نقطہ نظر فراہم کیا جائے،جس کا قیام 14 جولائی 1955 کو عمل میں لایا گیا
جامع العلوم ملتان اکابر علماء و مفکرین کی نظر میں
ہمارے معاشرے میں خرابی کے جو بنیادی اسباب پائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں دو الگ اور بالکل متضاد تعلیمی نظام رائج ہیں۔ ایک طرف ہماری مذہبی تعلیم کا نظام ہے جس میں سراسر قدیم علوم پڑھائے جاتے ہیں اور دوسری طرف جدید تعلیمی نظام ہے جو پورے کا پورا مغرب سے درآمد شدہ علوم اور خیالات پر قائم ہوا ہے ۔ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے ایک ابتدائی تجربہ جامع العلوم ملتان میں کیا جا رہا ہے یہاں یہ کوشش کی گئی ہے کہ قدیم مذہبی تعلیم کے نصابوں کو ملا کر ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے ،جس سے فارغ ہو کر نکلنے والے طلبہ دینی و دنیاوی علوم کے جامع ہوں۔ اس لیے میں ان تمام حضرات سے جو اس اہم تعلیمی ۔تجربے کی ضرورت اور اس کے فائدے کو محسوس کرتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ دل کھول کر اس مدرسے کی اعانت کریں ۔
شعبہ جات
شعبہ علوم اسلامیہ
مکمل درسِ نظامی مع دورہ حدیث
شعبہ علوم عصریہ
مڈل، میٹرک، ایف اے اور بی ایس
شعبہ ہائر ایجوکیشن
فضلاء ِ جامع العلوم اور دیگر تعلیم یافتہ افراد کے لیے فقہ الحلال (حلال فوڈ سرٹیفیکیشن ) کو رس کا اجراء کیا گیا ہے اورمختلف طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے دو سالہ دِراساتِ دِ ینیہ کو رس کا آن لائن اجراء کیا گیا ہے۔
شعبہ تحفیظ القرآن
پنجم پاس طلبہ کو دو سے تین سال کے عرصہ میں قرآنِ کریم حفظ کرایا جاتا ہے
شعبہ تجوید القران
حافظِ قرآن طلبہ کے لیے دو سالہ تجویدوقرأت کا کورس کرایا جاتا ہے۔
شعبہ ناظرہ تعلیم
ادارہ ہذا اور اِس کی تمام شاخوں میں ناظرہ قرآنِ کریم کی تعلیم کا انتظام موجود ہے۔
شعبہ آئی ٹی
جدید ترین کمپیوٹرز پر مشتمل ایک لیب موجود ہے جس کے ذریعے طلبہ کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے ایڈوانس کورسز(فری لانسنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ) بھی کروائے جاتے ہیں، تاکہ طلبہ تعلیم مکمل کرتے ہی باعزت معاشی مرتبے پر فائز ہو سکیں۔
شعبہ طالبات
مقامی طالبات کے لیے نرسری تا میٹرک الگ اسکول قائم ہے اور شعبہ تحفیظ القرآن بھی موجود ہے۔
خصوصیات
تعلیم کے ساتھ ساتھ فکری، اخلاقی اور تحریکی تربیت کا انتظام
دینی علوم کے لیے رابطۃ المدارس االاسلامیہ پاکستان کا آٹھ سالہ نصاب ِ تعلیم رائج ہے، جس کی شہادۃ العالمیہ (دورہ حدیث) کی سند
ایم اے عربی و اسلامیات کے مساوی تسلیم کی جاتی ہے
کمپیوٹر کی بنیادی اور اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ فری لانسنگ کی فری تعلیم
ہر قسم کی فرقہ بندی سے بالا تر ہو کر خالص اسلامی تعلیمات سے رُوشناس کرانا اور طلبہ کو اتحادِ امت کا داعی بنانا
کلاس ثامنہ (دورهٔ حدیث) کے طلبہ کو تحقیقی مقالہ جات لکھنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور ہر طالبِ علم کےلیے تحقیقی مقالہ لکھنا لازمی ہے
رہائش کے لیے تمام جدید سہولیات سے آراستہ جدید ترین خوبصورت اور وسیع ہاسٹل
مستحق طلبہ کے لیے قیام و طعام اور علاج معالجہ کی مفت سہولیات
دینی و عصری علوم کی ایک ساتھ تعلیم
جامع العلوم ملتان ایک نظر میں
علمی خدمات
نئے تعلیمی منصوبے
اسلامی بینکنگ کے ماہرین کی تیاری
عربی بول چال کورس
انگلش بول چال کورس
اسکالرشپس
- سالانہ امتحانات کلاس کی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کےلیے ماہانہ اسکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔
- تعلیمی بورڈ ز میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کی خاطر خاتم النبیین ﷺ اسکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔
شرائط داخلہ
- عمر 11 تا 14 سال ہو
- امیدوار پرائمری پاس ہو
- داخلہ ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
- حفاظ طلبہ کو ترجیح داخلہ دیا جائے گا
- امیدوار ناظرہ قران پاک پڑھ سکتا ہو
تصویری جھلکیاں




















سالانہ اخراجات
ادارے کے سالانہ اخراجات علاوہ تعمیرات آٹھ کروڑ سےمتجاوز ہیں۔
اپیل
آپ سے درخواست ہے کہ علم کی اس شمع کوفروزاں رکھنے کے لیے دامے، درمے، سخنے اپنے تعاون سے نوازیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ٰ آپ کے عطیات کو صدقہ جاریہ کے طور پر شرف ِ قبولیت بخشے اور اسکا بہترین اجر عطا فرمائے۔ (آمین)
مالی معاونت کا منفرد طریقہ
ایک طالبِ علم کی سالانہ خوراک کا خرچہ مبلغ ایک لاکھ روپے ہے جبکہ علاج معالجہ، قیام و طعام اور تعلیمی اخراجات شامل کر کے ایک طالبِ علم کا خرچ مبلغ ایک لاکھ بچاس ہزار روپے ہے۔آپ اپنی بساط کے مطابق ایک یا ایک سے زیادہ طلبہ اپنے لیے یا اپنے کسی مرحوم فرد کے لیے اسپانسر کر کے صدقہ جاریہ بنائیں۔ ان طلبہ کی تعلیمی کاردگی سے آپ کو باقاعدہ آگاہ رکھا جائے گا۔